ریو یو: منڈپ پر دولہے کو ہے انتظار، دلہن ہے فرار، عاشق کے ساتھ جنگل میں ہو رہی ہیں رنگ رلیاں

بالی وڈ کے معروف ہدایت کار امتیاز علی کی ڈائریکشن میں بننے والی یہ شارٹ فلم دی اَدَر وے (کسی اور طریقے سے) اپنی تکنیک کے لحاظ سے منفرد بھی ہے اور دل چسپ بھی۔ فلم ایک پیار کی کہانی ہے جس میں ایک فوٹوگرافر کو عالیشان ہوٹل کی ایک خوب صورت اور چنچل اسٹاف سے محبت ہو جاتی ہے۔

فلم امتیاز علی کی آواز میں شروع ہوتی ہے جب نگاہوں کے سامنے ایک بڑا سا گھنٹال ہوتا ہے اور نا معلوم جانب سے وقت کی اہمیت پر چند فلسفیانہ ڈائلاگز کی آواز گونج رہی ہوتی ہے۔

وقت تو وقت ہوتا ہے، مرنے کے وقت سکندر کا بھی ہاتھ خالی تھا، دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا مگر وقت پر اس کا بھی قابو نہیں چل سکا۔

فلم شروع ہوتی ہے وہاں سے جہاں حقیقت میں کہانی ختم ہوتی ہے۔ یعنی لڑکی کسی اور کے ساتھ شادی کر رہی ہوتی ہے مگر شادی سے کچھ لمحہ پہلے بھی اس نے اپنے عاشق کے ساتھ رومانس کیا۔

 سفید چادر پر خون کے چند دھبے دولہن کی دوشیزگی کی نہیں ہیں دلیل، دیکھیں شارٹ فلم ’سیل‘

اسی بات کے جواز میں اس کا عاشق کہتا ہے ’’ فریڈم کاکیا ہے نا؟ نہ کوئی ہم سے لے سکتا ہے نہ کوئی ہمیں دے سکتا ہے‘‘۔ اور لڑکی کہتی ہے ’’’اینی ٹائم‘ یعنی شادی کے بعد بھی میں جب چاہوں تمہارے ساتھ رومانس کر سکتی ہوں، مجھے کون روکے گا؟‘‘۔

فلم یوں تو فلیش بیک کی تکنیک میں ہے مگر فلیش بیک بھی انوکھے انداز میں ہے۔ عام فلموں میں جس طرح کہانی آگے بڑھتی ہے اس فلم میں اسی طرح کہانی خوب صورتی کے ساتھ پیچھے کی طرف چلتی جاتی ہے۔

اس فلم کی تکنیک کو اگر عام لفظوں میں سمجھنا ہو تو یوں سمجھیں کہ ایک بہترین کتاب ہے اور اس کتاب کو آپ نے آخری صفحے سے پڑھنا شروع کیا اور پہلے صفحے پر پہنچ کر کہانی مکمل ہو گئی۔

دیکھیں امتیاز علی کی یہ شارٹ فلم دی ادر وے

 

انٹرٹینمنٹ اور سنیما جگت کی مزید خبروں کی اپ ڈیٹس کے لئے لئےہمارا  FACEBOOK  اور   TWITTER  پیج لائیک کریں۔

ہماری ویب سائٹ cinekainaat.com پر خبریں پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

Share

Check Also

ریویو: جب دو ملکوں میں جل رہی تھی نفرت کی آگ، ان دو جسموں میں سلگ رہی تھی محبت، دیکھیں یہ شارٹ فلم

ہندوستان کی آزادی کے فورا بعد وطن کے دو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے جانے کا …