شارٹ فلم: سفید چادر پر خون کے چند دھبے دولہن کی دوشیزگی کی نہیں ہیں دلیل، دیکھیں ’سیل‘

ایک طرف دنیا ترقی کے منازل طے کرنے میں لگی ہوئی ہے، لوگ چاند پر کمندیں ڈال رہے ہیں، انسان دنیا کی ہر چیز پر اپنا قبضہ جما کر سپر پاور بننے میں مصروف ہے تو دوسری طرف وہی انسان اندھ وشواس اور پھس پھسی روایتوں کی کھائی میں ڈوبا ہواہے۔

’سیل‘ نام کی یہ شارٹ فلم نام سے تو سطحی یا محض ذہنی لذت حاصل کرانے والی معلوم ہوتی ہے مگر فلم سے سماج میں پھیلے ہوئے کچھ ایسے رسوم پر ضرب کاری لگانے کی کوشش کی گئی  ہے جن رسموں کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔ 

فلم میں شادی کی پہلی رات کا منظر دکھا یا گیا ہے، جس میں ایک شوہر اور بیوی کے درمیان مکالمے کا سہارا لے کر اصل پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب بیوی اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ مجھے کڑھائی اور سلائی کا شوق ہے، میں شادی کے بعد بھی اپنے اس شوق کو باقی رکھنا چاہتی ہوں۔

شوہر اجازت دے دیتا ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ لڑکیاں سسرال جانے کے بعد اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے سسرال والوں کی اجازت کی محتاج کیوں ہیں؟ فلم کا اصل میسیج ہے ’دوشیزگی‘۔ پہلی بار مجامعت کرنے سے پہلے لوگ سفید چادر بچھاکر اس کام کو انجام دیتے ہیں تاکہ بعد میں ان پر لگے ہوئے خون کے دھبوں کو دیکھ کر لڑکی کی عزت و عصمت کا فیصلہ کیا جا سکے۔

فلم میں لڑکا مڈل کلا س ہی ہے  مگر اس کی فکر ان باتوں سے بلند ہے، جبھی تو اس نے گھر والوں کے پریشر کے باوجود اپنی بیوی کے ساتھ اس طرح کی کوئی حماقت نہیں کی۔

لڑکے نے اپنی بیوی کی عزت اور عصمت بچانے کے لیے جو کیا وہ دیکھنے کے لائق ہے۔ فلم کے آخر میں دولہے کی انگلیوں سے ٹپکتے ہوئے خون کے قطرات نہیں ہیں بلکہ سماج کا جبر ہے اور اوچھی سوچ پر زور دار طمانچہ ہے۔

دیکھیں شارٹ فلم ’سیل‘

 

 

انٹرٹینمنٹ اور سنیما جگت کی مزید خبروں کی اپ ڈیٹس کے لئےہمارا  FACEBOOK  اور   TWITTER  پیج لائیک کریں۔

ہماری ویب سائٹ cinekainaat.com پر خبریں پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

Share

Check Also

ریویو: جب دو ملکوں میں جل رہی تھی نفرت کی آگ، ان دو جسموں میں سلگ رہی تھی محبت، دیکھیں یہ شارٹ فلم

ہندوستان کی آزادی کے فورا بعد وطن کے دو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے جانے کا …