ریویو: حیض کے مسائل اور سماج کے جکڑے ہوئے رسوم پر قدغن لگانے کے لیے ایک انقلاب ہے فلم ’پیڈ مین‘

فلم: پیڈ مین

ہدایت کار: آر بالکی

اداکار : اکشے کمار، سونم کپور، رادھیکا آپٹے

ریٹنگ: 3.5 اسٹار

فلم ’پیڈمین‘ تمل ناڈو کے ایک سماجی مصلح اروناچلم مروگننتھم کی زندگی پر بنائی گئی ہے  جنہوں نے ہندوستان کے دیہی علاقوں میں سنیٹری پیڈ (صاف ستھری حیض کی گدی) کے استعمال کے لیے انقلابی کارنامہ انجام دیا۔ ایام حیض میں ہر عورت کو صاف ستھری حیض کی گدی ملے اس کے لیے انہوں نے ان تھک محنت اور دیشی جگاڑ سے کم قیمت والی مشین ایجاد کی۔

یہ فلم ٹونکل کھنا کے افسانہ ’دی سنیٹیری مین آف سیکریڈ لینڈ‘ سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے۔ اور یہ افسانہ اروناچلم کی انقلابی زندگی کی ایک حقیقی داستان ہے۔

Image result for sonam kapoor padman film

فلم کی کہانی لکشمی کانت چوہان (اکشے کمار) اور گایتری چوہان (رادھیکا آپٹے) کی شادی سے شروع ہوتی ہے۔ کہانی شروع تو ایک گاؤں سے ہوتی ہے مگر فلم ختم ہوتے ہوتے لکشی کانت کے جنون اور جذبے کی گونج اقوام متحدہ (UN) تک سنائی دینے لگتی ہے۔ وہ لکشمی کانت جو پیاز کاٹتے وقت اپنے بیوی کی آنکھوں میں آنسو کے چند قطرات دیکھ کر پیاز کاٹنے کی مشین بنا سکتا ہے ذرا سوچیے وہ اپنی بیوی کو حیض کے دنوں میں بالکنی میں تنہا دیکھ کر کیا کر گزرے گا۔

اور پڑھیں: ریویو: واقعی عشق اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے، بھنسالی کی فلم ’پدماوت‘ دیکھ کر ہو جا ئےگا یقین

فلم کے مطابق کہانی 2001 کی ہے جب ایک پیکیٹ سنیٹری پیڈ 55 روپے کا ملتا تھا۔ لکشمی کانت نے اپنی بیوی کےپیڈ کے لیے 40 روپے اپنی جیب سے اور 15روپے اپنے قصائی دوست سے ادھار لے کر خریدا مگر سماج ریت رواج کے بندھن میں ایسا جکڑا ہوا تھا کہ اس کی بیوی نے پیڈ کی مہنگائی دیکھ کر اور ساس اور سماج کے طعنوں سے ڈر کر اس پیڈ  کو پہننے سے انکار کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ لکشمی کانت نے سستے پیڈ بنانے کے کامیاب اور ناکام تجربے کرنے شروع کر دیے۔

Image result for padman

فلم میں کہانی کی بُنَت  عمدہ اور بہترین ہے۔ اکشے کمار اور سونم کپور کی ملاقات فلم میں اتفاق سے ہوتی ہے۔ آدھی رات کو جب شہر کی ساری دکانیں بند تھیں، لکشمی کانت اپنی بنائی ہوئی مشین اور مشین سے بنائے ہوئے پیڈ کے انبار میں سڑک کنارے کسی گہری سوچ میں گم تھا، لکشمی کانت کو کوئی ایسا گاہک چاہیے تھا جو اس کے پیڈ کو استعمال کر کے بتائے کہ اس کے پیڈ استعمال کے قابل ہیں یا نہیں؟ اسی رات کے سناٹے میں پری اپنی ایک دوست کے ساتھ پیڈ خریدنے نکلی تھی۔

پری کو پیڈ کی سخت ضرورت تھی، اور لکشمی کانت کو وفادار گاہک کی، دونوں ایک دوسرے کے کام آگئے۔ لکشمی کانت کو ضرورت تھی ایک ایسے پڑھے لکھے انسان کی جو اس کے جذبات کو حقیقت میں بدل سکے، فلم میں پری نے لکشمی کانت کی دریافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

Related image

مہنگے پیڈ بنانے والی بڑی مشین کا ویڈیو دیکھ کر لکشمی کانت نے چار دل چسپ  اصطلاحات وضع کیے اور سستے پیڈ بنانے والی مشین ایجاد کرلی۔ وہ چار اصطلاحات یہ ہیں (1)پوسیشن  (2)چیپٹاشن (3) پوٹلیشن (4) ساف ستھراشن یعنی وہ چار مراحل جن سے  گزر کر روئی  سنیٹری پیڈ کی شکل اختیار کرلتی ہے۔ یہ لکشمی کانت کی زبان ہے جس کا نام انہوں نے ’لنگلش‘ رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے بعد اقوام متحدہ میں اسی زبان میں تقریر بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: ریویو: اجنبی جوان اور حسین لڑی کے درمیان ایک خوب صورت اتفاق کی کہانی ہے یہ شارٹ فلم ’اتفاق‘

Image result for padman

لکشمی کانت نے کہا کہ ان کی بنائی ہوئی مشین آٹو میٹک نہیں بلکہ ’ہاتھو میٹک ہے‘ یعنی ہاتھ سے چلنے والی ہے۔ فلم کی پوری کہانی اگر ایک جملے میں بیان کی جائے تو خود لکشمی کانت کی زبان  میں ’’چار آنے کی روئی اور دو آنے کی پوٹلی کے لیے پوری دنیا کو چونا لگا رکھا ہے‘‘۔  یہ جملہ لکشمی کانت نے  پیڈ بنانے کا غیر ملکی نسخہ جاننے کے بعد کہا تھا اور اسی کے جواب میں انہوں نے اپنی  سستی مشین ایجا دکی۔ 55 روپے کے  غیر ملکی پیڈ کی جگہ 2 روپے کا ملکی پیڈ عطا کیا۔    

حیض کے مسائل پر سماج کے جکڑے ہوئے رسوم اور رواج پر قدغن لگانے کے لیے ’پیڈ مین‘ جیسی فلم ایک بہترین کوشش ہے۔

 

انٹرٹینمنٹ اور سنیما جگت کی مزید خبروں کی اپ ڈیٹس کے لئے لئےہمارا  FACEBOOK  اور   TWITTER  پیج لائیک کریں۔

ہماری ویب سائٹ cinekainaat.com پر خبریں پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

Share