دیکھنے والے بدلتے رہے، مگر سنیما گھروں میں پردوں پر برسوں تک نہیں بدلی یہ 10 فلمیں

کوئی فلم سنیما ہال میں کتنے دنوں تک چل سکتی ہے؟ اگر آپ سے یہ پوچھا جائے تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ ’دو ہفتے!‘، ’ایک مہینے!‘، ’تین مہینے!‘، ’چھ مہینے‘ یا ’ایک سال!‘ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ’نہیں ! نا معلوم دنوں تک!‘ تو آپ شایدیقین نہیں کریں گے۔ جی ہاں! تاریخ فلمیات کی یہ ایک حقیقیت ہے۔ بالی ووڈ کی ایک فلم ایسی بھی ہے جو گزشتہ 22 سالوں سے اب تک ممبئی میں دکھائی جا رہی ہے۔

بالی ووڈ میں اچھی فلمیں بنیں اور جب  وہ سنیما ہال میں دکھائی گئیں تو سالوں سال تک ناظرین کا ہجوم سیلاب کی طرح امڈتا رہا۔ ہم یہاں ایسی ہی دس فلموں کی فہرست پیش کر رہے ہیں جو سنیما ہال میں سب سے زیادہ دنوں تک دکھائی گئیں۔

 10۔محبتیں۔ 1سال

 آدتیہ چوپڑا کی ہدایت کاری اورامتابھ بچن و شاہ رخ خان کی اداکاری  سے معمور یہ فلم مسلسل 50 ہفتوں تک سنیما ہال میں دکھائی گئی تھی۔ اس کے کئی ڈائیلاگ آج بھی مشہور ہیں اور اس کے نغمے جیسے ’چلتے چلتے کبھی رک جاتا ہوں میں۔۔۔۔کیا یہی پیار ہے؟ کیا یہی پیار ہے؟‘ اور  ’آنکھیں کھلیں یا ہوں بند دیدار ان کا ہوتا ہے‘ آج بھی صدا نغموں کی فہرست میں اوپر نظر آتے ہیں۔

کنگ خان اور بگ بی کے علاوہ سابق مس ورلڈ ایشوریا رائے اور ان کے علاوہ جمی شیرگل، جگل ہنس راج ،ادے چوپڑا، شمتا سیٹھی اور پریتی جہانگیانی نے بھی اپنی لازوال اداکاری سے اس فلم کی دلکشی میں چار چاند لگا دیئے تھے۔ فلم ’محبتیں‘ نے 90کروڑ روپئے کی کمائی کی تھی۔ 62.70 کروڑ ہندوستانی مارکیٹ سے اور 39.19 کروڑ دیگر ممالک سے۔

9۔ کہو نہ ۔۔۔پیار ہے۔ 1سال 

راکیش روشن کی یہ فلم بعض سنیما گھروں میں ایک سال سے بھی زیادہ چلی تھی۔ اسی مقبولیت کی بنا پر اس فلم کا نام ’لمکا بک آف ریکارڈس‘ میں درج کیا گیا۔ ایوارڈ فنکشنس سے اس فلم کے نام 102 انعامات آئے۔

اس فلم کے ذریعہ راکیش روشن نے اپنے بیٹے رتک روشن کو لانچ کیا تھا۔ اسن کے نغمے آج بھی بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں۔ یہ فلم سن 2000 میں بالی ووڈ باکس آفس کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پکچر ثابت ہوئی۔ یہ 10 کروڑ کے بجٹ سے بنائی گئی تھی اور اس نے 62 کروڑ روپئے کی کمائی کی۔

8۔ راجہ ہندوستانی۔ 1سال

مالک کی لڑی کے ساتھ ایک کار ڈرائیور کی محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگ سنیما ہال میں امڈ پڑے تھے۔ عامر خان اور کرشمہ کپور کی اداکاری اور اس کے دلکش نغمے ملاحظہ کرنے کے بعد لوگ مسرور ہی نہیں مسحور بھی ہو جاتے ہیں۔

اس کے سبھی گانے ہٹ ہوئے اور 100 ہٹ بالی ووڈ نغموں میں اس نے 56 واں مقام حاصل کیا۔ ہدایت کار دھرمیش درشن نے اس فلم کو 5 کروڑ کے بجٹ میں بنایا تھا اور اس نے 34.76 کروڑ روپئے کی کمائی کی۔

7۔ہم آپ کے ہیں کون؟ 1۔سال

فلم ’ہم آپ کے ہیں کون‘ پہلی ایسی فلم ہے جس نے 100 کروڑ روپئے کمائی کی تھی۔ 1994میں رلیز ہونے والی یہ فلم بہترین فیملی فلم کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ سلماں خان اور مادھوری دکشت کی اداکاری نے اس فلم میں شادی اور ایک فیملی کے رسوم کو بڑے سلیقے سے ادا کیا۔

اگر کسی انجانے کو ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے بارے میں جاننا ہو تو اسے یہ فلم دیکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ سورج بڑجٹیا کی ہدایت کاری میں بنائی گئی اس فلم نے 35.1 کروڑ کی کمائی کی تھی۔

6۔میں نے پیار کیا 1۔سال

یہی وہ فلم ہے جس نے بھائی جان اور ان کی کو اسٹار بھاگیہ شری کو راتوں رات اسٹار بنا دیا تھا۔ سلمان خان اور بھاگیہ شری نے اس میں دو الگ الگ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے دوست کا رول پلے کیا تھا۔ اس فلم کے محبت بھرے نغمے آج بھی سامعین کے کانوں میں رس گھول جاتے ہیں۔

سورج بھڑجٹیا کی یہ فلم 1989 میں منظر عام پر آئی تھی اور سنیما گھروں میں خوب چلی تھی۔ 2 کروڑ کی لاگت سے بنائی اس فلم نے 14 کروڑ روپئے وصول کئے تھے اور 1990 میں منعقد کئے جانے والے 35ویں فلم فیئر ایورڈ میں سات انعام اس فلم کے نام آئے تھے۔

5۔برسات ۔ 2 سال

راج کپور اور نرگس کی یہ فلم سالوں تک سنیما گھروں میں دھمال مچائی تھی۔ عمدہ کہانی، شیریں نغمے اور قابل تعریف اداکاری کے عوض یہ فلم بڑے دنوں تک ناظرین کے دلوں پر حاوی رہی تھی۔

اس کے نغمے اتنے پسند کئے گئے کہ پلانٹ بالی ووڈ نے اس کے گانوں کو 100 فلمی گانوں میں نمبر ون کا درجہ دیا۔ اسی فلم سے ہوئی کمائی کے عوض راج کپور نے آر کے اسٹودیو خرید لیا تھا۔ یہ فلم 1949 میں آئی تھی۔

4۔قسمت۔ 3 سال

1943 کی یہ فلم ہندوستانی سنیما کی پہلی بلاک بسٹر فلم کہی جاتی ہے۔ اشوک کمار، ممتاز اور شہناز کی اداکاری سے معمور یہ فلم 3 سالوں تک سنیما اسکرین پر دکھائی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فلم کلکتہ کے مشہور راکی سنیما میں 187 ہفتوں تک دکھائی گئی تھی۔ یہ پہلی ایسی فلم تھی جس میں ایک اداکار نے دو رول پلے کئے تھے۔

فلم ساز گیان مکھجرجی نے اس کی ہدایت کاری کی تھی اور اس کی اسکرپٹ بھی انہوں نے ہی تیار کی تھی۔ اس فلم کے تین نغمے ’دور ہٹو دنیا والوں ہم ہیں ہیندوستانی‘، ’گھر گھر میں دیوالی‘ اور ’دھیرے دھیرے آ‘ بے حد مقبول ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹام الٹر: ہندوستانی سنیما کا وہ نام جس کی رگوں میں خون، اردو اور ہندوستان تینوں کی روانی تھی

3۔ مغل اعظم۔ 3 سال

1960 میں جب یہ رلیز ہوئی تھی تو اس وقت کے ریکارڈ کے حساب سے سب سے زیادہ سنیما گھروں میں اس کی نمائش کی گئی تھی۔ 3 سالوں تک ناظرین اس سے مسلسل لطف اندوز ہوئے تھے۔ دلیپ کمارہوں یا مدھوبالا، پرتھوی راج چوہان ہوں یا درگا کھوٹے ہر ایک نے اپنی اداکاری سے سلیم، انارکلی، اکبر اور جودھا بائی کے کردار کو گویا حقیقت کے روپ میں سنیما اسکرین پر اتار دیا تھا۔

Image result for mughal e azam

اس کے سبھی گانے آج بھی بڑے شوق سنے جاتے ہیں۔ اس کے نغمے شکیل بدایونی نے لکھے تھے اور نوشاد نے ان کی موسیقی تیار کی تھی۔ فلم ساز کے آصف نے اس کی تیاری 1947 کی آزادی سے پہلے ہی شروع کر دی تھی۔ تقسییم ہند و پاک کی وجہ سے اس فلم یونٹ کے کئی لوگ پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ اس وجہ سے اس کی شوٹنگ میں کچھ عرصے کا وقفہ بھی آگیا تھا۔

Image result for mughal e azam

’مغل اعظم‘ 5.1 کروڑ کی لاگت سے بنی تھی اور اس نے 5.5 کروڑ روپئے کمائے وصولی کی تھی۔ اس فلم کو سن 2004 میں کلر فلم کا رنگ روپ عطاکر کے دوبارہ سنیما گھروں میں پیش کیا گیا تھا۔

2۔ شعلے۔ 5 سال

Related image

1975 میں رلیز ہونے والی اس فلم کو ناظرین نے پانچ سالوں تک دیکھا تھا۔ اس کے ڈائیلاگ اور  کردار اتنے مظبوط تھے کہ دیکھنے والوں کو آج بھی اسی طرح  ذہن نشیں ہیں۔ گبر سنگھ یا ٹھاکر کے ڈائیلاگ آج بھی نوجوانوں کی گفتگو میں بار بار در آتے ہیں۔ ’کتنے آدمی تھے۔۔۔سردار تین’ اور ’کود جاؤں گا، بھاند جاؤں گا، مر جاؤں گا‘ جیسے ڈائیلاگ کا دہرانا تو آج بھی محفلوں کو خوشگوار بنادیتا ہے۔

Image result for sholay star cast

اس فلم کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ اس کے بعد اس میں کام کرنے والے ہر صاحب ہنر کی مانگ بڑھ گئی۔ جاوید اختر اور سلیم خان اور کئی اداکروں کو ’شعلے‘ نے فلمی دنیا میں ایک نئی زندگی بخشی۔ تقریبا چالیس سال بعد 2014 میں فلم ساز کیتن مہتا کی فلم کمپنی مایا ڈیجیٹل نے فلم ’شعلے‘ کو 3 ڈی فارمیٹ میں دوبارہ رلیز کیا تھا۔ 2015 میں اسے پاکستان کے سنیما گھروں میں بھی رلیز کیا گیا تھا۔

1۔ دل والے دلہنیا لے جائیں گے۔ 21 سال 

1995 میں آئی یہ فلم ناظرین کے دل و دماغ پر ایسے چھائی ہے کہ آج بھی اس کا کریز برقرار ہے۔ گزشتہ 22 سالوں سے یہ فلم ممبئی کے مراٹھا مندر سنیما گھر میں روز دیکھائی جاتی ہے۔ راج (شاہ رخ خان) کی عشق بازی، سمرن (کاجول) کے ناز و ادا، بلدیو سنگھ چودھری (امریش پوری) کی ضد اور دھرم ویر ملہوترا (انوپم کھیر) کی پرمزاح اداکاری کا جادو آج بھی دیکھنے والوں کے سر سے نہیں اترا ہے۔ اس کے لازوال نغمے اب بھی سننے والوں کو ایک نئی تازگی نخش جاتے ہیں۔

Related image

یہ فلم 10 فلم فیئر ایوارڈ سے سرفراز ہوئی تھی۔ انگریزی روزنامہ ’ٹائمس آف انڈیا‘ نے  اسے ’10 ایسی فلمیں جنہیں مرنے سے پہلے آپ کو ضرور دیکھنا چاہئے‘ کی فہرست میں جگہ دی ہے۔ الغرض پش چوپڑا کے بیٹے آدتیہ چوپڑا نے یہ فلم بنا کر ثابت کیا تھا کہ وہ بھی اپنے والد سے کوئی کم نہیں ہیں۔

انٹرٹینمنٹ اور سنیما جگت کی مزید خبروں کی اپ ڈیٹس کے لئے لئےہمارا  FACEBOOK  اور   TWITTER  پیج لائیک کریں۔

ہماری ویب سائٹ cinekainaat.com پر خبریں پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

Share

Check Also

باکس آفس پر عالیہ بھٹ کی فلم سے ناضرین ہیں بےحد ’راضی‘، 11 دن میں کمائے اتنے کروڑ روپیے

بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی فلم ’راضی‘ باکس آفس پر زبردست کاروبار کر رہی …